المدرسۃ الاسلامیہ العالمیہ

فَسْــٴَـلُـوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ

المدرسۃ الاسلامیہ العالمیہ

ہماری تاریخ

اسلامک سنٹر

المدرسۃ الاسلامیہ العالمیہ کی طرف سے ہم آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ اس ادارہ کا آغاز 2020ء میں کیا گیا تھا جس کا بنیادی مقصد رسول اللہ ﷺ کے لائے گئے دین "اسلام" کی ترویج اور اس کو لوگوں کی عملی زندگی میں شامل کرنے کے لیے کوششیں کرنا ہے۔ کلمہ حق کی ادائیگی کے ساتھ ہی انسان کی شناخت بدل جاتی ہے اور اس کو "مسلمان " کی شناخت حاصل ہو جاتی ہےاور اس شناخت کے ساتھ ہی "مسلمان" پر اطاعت الٰہی کا فریضہ عائد ہو جاتا ہے۔ اللہ رب العزت نے "انسان" کی رہنمائی کے لیے قرآن مجید کی صورت میں ایک مکمل مجموعہ عنایت فرمایا ہے جس میں انسان کی تخلیق کو مدنظر رکھتے ہوئے انسانی زندگی کے ہر پہلو اور ہر حیثیت کے لیے احکامات بیان کیے گئے ہیں۔ محمد مصطفیٰ ﷺ کے اعلان نبوت سےتعلیم قرآن کے ذریعے انسانوں کو یہ رہنمائی پہنچانے کا سلسلہ شروع ہوا جو آج تک جاری و ساری ہے۔ المدرسۃ الاسلامیہ العالمیہ اس سلسلہ کو آگے بڑھانے کے لیے ایک عملی قدم ہے جس میں شریعت محمدیہ ﷺ کی تعلیمات کو طلباء و طالبات تک پہنچانا مقصود ہے تاکہ آج کا نوجوان عصر حاضر کے چیلنجز سے نبرد آزما ہو سکے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے ادارہ "المدرسۃ الاسلامیہ العالمیہ " نے اپنی اصل اسی شجر سے پیوست کی ہے جس کو ہمارے ہاں روایتی یا بنیادی مکتبہ فکر کہا جاتا ہے۔ اسی لیے روایتی مکتبہ فکر کے نمائندہ بورڈ "وفاق المدارس الاسلامیہ الرضویہ (رجسٹرڈ) " جو کہ HEC اور وفاقی وزارت تعلیم سے منظور شدہ ہے کہ ساتھ "المدرسۃ الاسلامیہ العالمیہ" کا الحاق کیا گیا ہے۔ ہمارے تعلیمی مقاصد کے حصول کے لیے جن کورسز کو ہدف بنایا گیا ہے ان میں حفظ القرآن، تجوید و قرات، درس نظامی اور عصری ضروریات کے تحت ترتیب دئیے گئے مختصر دورانیہ کے کورسز شامل ہیں۔

ہماری تاریخ

اسلامک سنٹر

المدرسۃ الاسلامیہ العالمیہ کی طرف سے ہم آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ اس ادارہ کا آغاز 2020ء میں کیا گیا تھا جس کا بنیادی مقصد رسول اللہ ﷺ کے لائے گئے دین "اسلام" کی ترویج اور اس کو لوگوں کی عملی زندگی میں شامل کرنے کے لیے کوششیں کرنا ہے۔ کلمہ حق کی ادائیگی کے ساتھ ہی انسان کی شناخت بدل جاتی ہے اور اس کو "مسلمان " کی شناخت حاصل ہو جاتی ہےاور اس شناخت کے ساتھ ہی "مسلمان" پر اطاعت الٰہی کا فریضہ عائد ہو جاتا ہے۔ اللہ رب العزت نے "انسان" کی رہنمائی کے لیے قرآن مجید کی صورت میں ایک مکمل مجموعہ عنایت فرمایا ہے جس میں انسان کی تخلیق کو مدنظر رکھتے ہوئے انسانی زندگی کے ہر پہلو اور ہر حیثیت کے لیے احکامات بیان کیے گئے ہیں۔ محمد مصطفیٰ ﷺ کے اعلان نبوت سےتعلیم قرآن کے ذریعے انسانوں کو یہ رہنمائی پہنچانے کا سلسلہ شروع ہوا جو آج تک جاری و ساری ہے۔ المدرسۃ الاسلامیہ العالمیہ اس سلسلہ کو آگے بڑھانے کے لیے ایک عملی قدم ہے جس میں شریعت محمدیہ ﷺ کی تعلیمات کو طلباء و طالبات تک پہنچانا مقصود ہے تاکہ آج کا نوجوان عصر حاضر کے چیلنجز سے نبرد آزما ہو سکے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے ادارہ "المدرسۃ الاسلامیہ العالمیہ " نے اپنی اصل اسی شجر سے پیوست کی ہے جس کو ہمارے ہاں روایتی یا بنیادی مکتبہ فکر کہا جاتا ہے۔ اسی لیے روایتی مکتبہ فکر کے نمائندہ بورڈ "وفاق المدارس الاسلامیہ الرضویہ (رجسٹرڈ) " جو کہ HEC اور وفاقی وزارت تعلیم سے منظور شدہ ہے کہ ساتھ "المدرسۃ الاسلامیہ العالمیہ" کا الحاق کیا گیا ہے۔ ہمارے تعلیمی مقاصد کے حصول کے لیے جن کورسز کو ہدف بنایا گیا ہے ان میں حفظ القرآن، تجوید و قرات، درس نظامی اور عصری ضروریات کے تحت ترتیب دئیے گئے مختصر دورانیہ کے کورسز شامل ہیں۔

ہماری تاریخ

اسلامک سنٹر

المدرسۃ الاسلامیہ العالمیہ کی طرف سے ہم آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ اس ادارہ کا آغاز 2020ء میں کیا گیا تھا جس کا بنیادی مقصد رسول اللہ ﷺ کے لائے گئے دین "اسلام" کی ترویج اور اس کو لوگوں کی عملی زندگی میں شامل کرنے کے لیے کوششیں کرنا ہے۔ کلمہ حق کی ادائیگی کے ساتھ ہی انسان کی شناخت بدل جاتی ہے اور اس کو "مسلمان " کی شناخت حاصل ہو جاتی ہےاور اس شناخت کے ساتھ ہی "مسلمان" پر اطاعت الٰہی کا فریضہ عائد ہو جاتا ہے۔ اللہ رب العزت نے "انسان" کی رہنمائی کے لیے قرآن مجید کی صورت میں ایک مکمل مجموعہ عنایت فرمایا ہے جس میں انسان کی تخلیق کو مدنظر رکھتے ہوئے انسانی زندگی کے ہر پہلو اور ہر حیثیت کے لیے احکامات بیان کیے گئے ہیں۔ محمد مصطفیٰ ﷺ کے اعلان نبوت سےتعلیم قرآن کے ذریعے انسانوں کو یہ رہنمائی پہنچانے کا سلسلہ شروع ہوا جو آج تک جاری و ساری ہے۔ المدرسۃ الاسلامیہ العالمیہ اس سلسلہ کو آگے بڑھانے کے لیے ایک عملی قدم ہے جس میں شریعت محمدیہ ﷺ کی تعلیمات کو طلباء و طالبات تک پہنچانا مقصود ہے تاکہ آج کا نوجوان عصر حاضر کے چیلنجز سے نبرد آزما ہو سکے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے ادارہ "المدرسۃ الاسلامیہ العالمیہ " نے اپنی اصل اسی شجر سے پیوست کی ہے جس کو ہمارے ہاں روایتی یا بنیادی مکتبہ فکر کہا جاتا ہے۔ اسی لیے روایتی مکتبہ فکر کے نمائندہ بورڈ "وفاق المدارس الاسلامیہ الرضویہ (رجسٹرڈ) " جو کہ HEC اور وفاقی وزارت تعلیم سے منظور شدہ ہے کہ ساتھ "المدرسۃ الاسلامیہ العالمیہ" کا الحاق کیا گیا ہے۔ ہمارے تعلیمی مقاصد کے حصول کے لیے جن کورسز کو ہدف بنایا گیا ہے ان میں حفظ القرآن، تجوید و قرات، درس نظامی اور عصری ضروریات کے تحت ترتیب دئیے گئے مختصر دورانیہ کے کورسز شامل ہیں۔

ہماری تاریخ

اسلامک سنٹر

المدرسۃ الاسلامیہ العالمیہ کی طرف سے ہم آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ اس ادارہ کا آغاز 2020ء میں کیا گیا تھا جس کا بنیادی مقصد رسول اللہ ﷺ کے لائے گئے دین "اسلام" کی ترویج اور اس کو لوگوں کی عملی زندگی میں شامل کرنے کے لیے کوششیں کرنا ہے۔ کلمہ حق کی ادائیگی کے ساتھ ہی انسان کی شناخت بدل جاتی ہے اور اس کو "مسلمان " کی شناخت حاصل ہو جاتی ہےاور اس شناخت کے ساتھ ہی "مسلمان" پر اطاعت الٰہی کا فریضہ عائد ہو جاتا ہے۔ اللہ رب العزت نے "انسان" کی رہنمائی کے لیے قرآن مجید کی صورت میں ایک مکمل مجموعہ عنایت فرمایا ہے جس میں انسان کی تخلیق کو مدنظر رکھتے ہوئے انسانی زندگی کے ہر پہلو اور ہر حیثیت کے لیے احکامات بیان کیے گئے ہیں۔ محمد مصطفیٰ ﷺ کے اعلان نبوت سےتعلیم قرآن کے ذریعے انسانوں کو یہ رہنمائی پہنچانے کا سلسلہ شروع ہوا جو آج تک جاری و ساری ہے۔ المدرسۃ الاسلامیہ العالمیہ اس سلسلہ کو آگے بڑھانے کے لیے ایک عملی قدم ہے جس میں شریعت محمدیہ ﷺ کی تعلیمات کو طلباء و طالبات تک پہنچانا مقصود ہے تاکہ آج کا نوجوان عصر حاضر کے چیلنجز سے نبرد آزما ہو سکے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے ادارہ "المدرسۃ الاسلامیہ العالمیہ " نے اپنی اصل اسی شجر سے پیوست کی ہے جس کو ہمارے ہاں روایتی یا بنیادی مکتبہ فکر کہا جاتا ہے۔ اسی لیے روایتی مکتبہ فکر کے نمائندہ بورڈ "وفاق المدارس الاسلامیہ الرضویہ (رجسٹرڈ) " جو کہ HEC اور وفاقی وزارت تعلیم سے منظور شدہ ہے کہ ساتھ "المدرسۃ الاسلامیہ العالمیہ" کا الحاق کیا گیا ہے۔ ہمارے تعلیمی مقاصد کے حصول کے لیے جن کورسز کو ہدف بنایا گیا ہے ان میں حفظ القرآن، تجوید و قرات، درس نظامی اور عصری ضروریات کے تحت ترتیب دئیے گئے مختصر دورانیہ کے کورسز شامل ہیں۔

اساتذہ

ڈاکٹر محمد رضوان محمود

مدرسۃ الاسلامیہ العالمیہ کے سینئر مدرس ہیں۔ علومِ دینیہ کی تدریس اور طلبہ کی علمی و اخلاقی تربیت میں نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔

ڈاکٹر محمد ندیم

اسلامی علوم اور عصری موضوعات کے ماہر ہیں۔ طلبہ کی رہنمائی اور دینی تعلیم کے فروغ کے لیے تدریسی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

ڈاکٹر حافظ طاہر المصطفیٰ

حفظِ قرآن، تجوید و قرأت کے متخصص ہیں۔ طلبہ کو قرآن کریم کی درست تعلیم اور عملی رہنمائی فراہم کرنے میں مصروفِ عمل ہیں۔

ڈاکٹر محمد منیر صدیقی

دینی تعلیم و تربیت کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کا اندازِ تدریس آسان، مؤثر اور طلبہ دوست ہے۔

محمد عمر راحل

اسلامی تعلیمات کے فروغ اور طلبہ کی فکری و اخلاقی تربیت کے لیے کوشاں ہیں۔ جدید اور روایتی علوم کے امتزاج پر یقین رکھتے ہیں۔

محمد اعظم

تدریس اور تربیت کے شعبہ سے وابستہ ہیں۔ طلبہ کی علمی ترقی اور دینی شعور کی بیداری کے لیے سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر مظفر علی

دینی و اسلامی علوم کے استاد ہیں۔ طلبہ کی فکری رہنمائی اور دینی تعلیم کے فروغ کے لیے خدمات انجام دے رہے ہیں۔

ہمارے بارے میں

بنیادی طور پر ہمارا ادارہ میزان ریسرچ انسٹیٹیوٹ سال 2010 میں تشکیل دیا گیا تھا جس کے مقاصد عصری ضروریات کے مطابق اسلام کے احکام کو وضاحت کے ساتھ پیش کرنا تھا تاکہ آج کے مسلمان عملی زندگی میں اسلام کو شامل کر سکیں۔ اس مقصد کے لیے میدانی و اطلاقی تحقیق کے مطابق جب زمینی حقائق کا تجزیہ کیا گیا تو اندازہ ہوا کہ ایسے کئی ادارے موجود ہیں جن کا مقصد ایسی تحقیقات ہیں جو کہ عصری مسائل کا حل شریعت اسلامیہ کی روشنی میں پیش کر سکیں اس لیے وہ پہلو جس پر کوئی کام نہیں کر رہا اس پر عملی اقدامات کا فیصلہ کیا گیا۔ اسی مقصد کے تحت ادارہ کے بورڈ نے دو بڑے فیصلے کیے جس میں سے پہلا اس ادارے کے نام کی “میزان ریسرچ انسٹیٹیوٹ ساہیوال” سے “میزان ریسرچ اینڈ پالیسی سٹڈیز انسٹیٹیوٹ ساہیوال” سے تبدیلی کا تھا اور دوسرا یہ اہم فیصلہ کیا گیا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ہر وہ عملی تحقیقی کام جس کا تعلق عام آدمی کی زندگی سے ہے وہ اردو زبان میں کیا جائے گا۔ اسی مقصد کی تکمیل کے لیے طے کیا گیا کہ اعلیٰ تحقیقی معیارات کے مطابق مختلف ادارہ جاتی پالیسیوں کا تنقیدی مطالعہ بھی کیا جائے گا۔ اسی ادارے کی رجسٹریشن کے لیے “سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان” سے “میزان ایجوکیشن اینڈ ریسرچ ایسوسی ایٹ پرائیویٹ لیمیٹڈ ” کمپنی رجسٹرڈ کروائی گئی۔ ہمارے ادارے نے سال 2019ء میں فیصلہ کیا کہ اس مقصد کو مسلسل آگے بڑھانے کے لیے ہمیں ایسی افرادی قوت کی ضرورت ہو گی جو ہمارے ادارے کو مستقبل میں آگے بڑھا سکیں جس کی تکمیل کے لیے ایک ادارے کے آغاز کا فیصلہ کیا گیا جو کہ “المدرسۃ الاسلامیہ العالمیہ” کی شکل میں تشکیل دیا گیا۔ المدرسۃ الاسلامیہ العالمیہ اس وقت ایک تحقیقی مجلہ “تنقیدات: جرنل برائے مطالعہ مذہب و پالیسی” کا آغاز بھی کر چکا ہے جس کو جلد ہائیر ایجوکیشن کمیشن سے منظور کروایا جائے گا۔

طریقہ تدریس:

المدرسۃ الاسلامیہ العالمیہ نے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے اپنے اہداف کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہے

ریکارڈشدہ دروس

آنلائن طریقہ تدریس

رسمی طریقہ تدریس

جو طلباء و طالبات ہمارے ادارہ میں موجود ہیں یا روزانہ کی بنیاد پر حصول تعلیم کے لیے آ سکتے ہیں ان کو رسمی طریقہ تدریس کے ذریعے تعلیم دی جاتی ہے جبکہ جو لوگ مختلف علاقوں میں موجود ہیں اور سفر کرنے سے قاصر ہیں تو ان کے لیے آنلائن کاسز کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ جب کہ وہ افراد جو کہ ملازمت یا کاروبار سے وابستہ ہونے کی بنا پر وقت کی پابندی کرنے سے قاصر ہیں ان کے لیے ریکارڈ شدہ لیکچرز مہیا کیے جاتے ہیں تاکہ وہ اس کے ذریعے دین اسلام کی بنیادی تعلیم حاصل کر کے دنیا و آخرت میں کامیابی سمیٹ سکیں۔

Associated Mosque

Namaz Timings

Fajr

Start: 5:55 AM

Iqamah: 6:10 AM

ZUHR

Start: 11:55 AM

Iqamah: 12:10 PM

ASR

Start: 1:35 PM

Iqamah: 1:50 PM

MAGRIB

Start: 3:51 PM

Iqamah: 4:06 PM

ISHA

Start: 5:55 PM

Iqamah: 6:10 PM

اغراض و مقاصد

دین کو عملی زندگی میں شامل کرنے کے لیے نوجوان ذہنوں کو تیار کرنا

طلباء کو دینی و دینوی علوم سے روشناس کرانا

عصری ذرائع سے دین مصطفوی ﷺ کی تبلیغ و ترویج

دور جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ فقہی مسائل نسل نو تک پہنچانا

عصری اداروں کے لیے ایسے نوجوان پیدا کرنا جو دین کے علمی ڈھانچہ سے واقف ہوں

طلباء و علماءوائمہ کو معاشی طور پر مضبوط کرنا

تزکیہ و تربیتی پروگراموں کا اہتمام

قدیم و جدید علوم کا حسین امتزاج

A PLACE FOR YOU

We established our center in 1954, sed do eiusmod tempor incididunt ut labore et dolore magna aliqua. Ut enim ad minim veniam, quis nostrud exercitation ullamco laboris .Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipisicing elit, sed do eiusmod tempor incididunt ut labore et dolore magna aliqua.